پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔

  ڈان نیوز کی 19 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ تجویز اب بھی زیرِ غور تھی۔ ایران نے کہا کہ وہ امریکا کی جانب سے موصول ہونے والے ردعمل کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایران کی شرائط میں بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا، تیل کی برآمدات پر پابندیوں کا خاتمہ اور خطے میں لڑائی روکنا شامل تھا۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس خطے میں کشیدگی تیل کی قیمتوں، جہاز رانی کے اخراجات اور عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی خطے میں امن اہم ہے کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے ملکی معیشت اور عام صارفین پر دباؤ بڑھ سکتا ہے