پاکستان میں چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کو محدود ردعمل کا سامنا ہے۔ 

ڈان نیوز  کے 19 اکتوبر کو شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق، ٹیکس سال 2026 میں اس اسکیم کے تحت تقریباً 1,400 تاجروں نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے، جن میں صرف 150 نئے ٹیکس دہندگان شامل تھے۔

اسکیم کا مقصد تاجروں کے لیے ٹیکس کی ادائیگی اور رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانا اور کاروباری شعبے کو دستاویزی نظام میں لانا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ چھوٹے کاروباروں کے لیے مجموعی فروخت پر ٹیکس عائد ہونے کا خدشہ، مستقبل کی پالیسی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور ٹیکس حکام کے ساتھ معاملات سے متعلق تحفظات رجسٹریشن میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

پاکستان میں خوردہ کاروبار کا بڑا حصہ نقد لین دین پر انحصار کرتا ہے، جس سے کاروباری آمدنی اور فروخت کا درست ریکارڈ مرتب کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو آسان بنانا، تاجروں کا اعتماد بڑھانا اور سپلائی چین میں لین دین کا ریکارڈ بہتر کرنا ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

اس معاملے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ٹیکس وصولیوں میں بہتری حکومت کو عوامی خدمات، ترقیاتی