
صوبیدار عبدلخالق
صوبیدار عبدلخالق
athlete · Chakwa;
Bird of Asia: The Magnificent Life and Achievements of Subedar Abdul Khaliq Subedar Abdul Khaliq, popularly known as the “Bird of Asia”, was a great athlete of Pakistan who made the country famous in the 1950s and 1960s. He was a former Subedar of the Pakistan Army and was known worldwide for his lightning speed in the field of sprinting. Sadly, today’s generation is less aware of his feats, and he is neither mentioned in school textbooks nor in television programs. Let’s take a detailed look at his life and achievements
ایشیا کا پرندہ: صوبیدار عبدالخالق کی شاندار زندگی اور کارنامے
صوبیدار عبدالخالق، جو "ایشیا کا پرندہ" کے لقب سے مشہور تھے، پاکستان کے ایک عظیم ایتھلیٹ تھے جنہوں نے 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں ملک کا نام روشن کیا۔ وہ پاکستان آرمی کے سابق صوبیدار تھے اور سپرنٹنگ کے میدان میں اپنی برق رفتار کی وجہ سے دنیا بھر میں جانے جاتے تھے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج کل کی نسل ان کے کارناموں سے کم واقف ہے، اور نہ تو سکول کی کتابوں میں ان کا تذکرہ ہے اور نہ ہی ٹیلی ویژن پروگراموں میں۔ آئیے ان کی زندگی اور کامیابیوں پر ایک تفصیلی نظر ڈالتے ہیں، جو معتبر ذرائع جیسے ویکی پیڈیا، اولمپڈیا اور دیگر کھیلوں کی ویب سائٹس سے حاصل کی گئی ہیں۔
عبدالخالق 23 مارچ 1933 کو چکول کے ضلع جنڈ میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں وہ کبڈی کے کھیل میں دلچسپی رکھتے تھے، لیکن ایک کبڈی میچ کے دوران ان کی رفتار نے پاکستان آرمی اسپورٹس کنٹرول بورڈ کے سربراہ بریگیڈیئر روڈہم کی توجہ حاصل کی۔ اس کے نتیجے میں انہیں آرمی کی بوائز کمپنی میں بھرتی کر لیا گیا۔ وہ 1948 سے 1978 تک پاکستان آرمی میں خدمات انجام دیتے رہے اور 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں بھی حصہ لیا۔
عبدالخالق نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 100 میٹر، 200 میٹر، 4x100 میٹر ریلے، اور دیگر سپرنٹ ایونٹس میں حصہ لیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد، انہوں نے آرمی (1965-1967، 1970-1971)، پنجاب (1974-1975) اور قومی سطح پر (1974-1978) کوچنگ کی خدمات انجام دیں۔ انہیں 1958 میں پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
عبدالخالق نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 63 بین الاقوامی میڈلز جیتے: 36 گولڈ، 15 سلور، اور 12 برونز۔ یہ میڈلز مختلف بین الاقوامی مقابلوں سے حاصل کیے گئے، جن میں ایشین گیمز، کامن ویلتھ گیمز، اولمپکس، اور دیگر عالمی اور دو طرفہ میٹس شامل ہیں۔ نوٹ: کچھ ذرائع (جیسے ڈیلی ٹائمز) بین الاقوامی میڈلز کو 26 گولڈ، 23 سلور، 15 برونز بتاتے ہیں، جبکہ ویکی پیڈیا اور دیگر اکثریت 36 گولڈ بین الاقوامی کی تعداد دیتے ہیں۔ قومی سطح پر انہوں نے تقریباً 100 گولڈ میڈلز جیتے۔
100 یارڈ: 9 گولڈ، 0 سلور، 2 برونز
120 یارڈ: 2 گولڈ
100 میٹر: 13 گولڈ، 8 سلور، 4 برونز
220 یارڈ: 2 گولڈ، 1 سلور، 1 برونز
200 میٹر: 7 گولڈ، 4 سلور، 4 برونز
4x110 یارڈ ریلے: 1 گولڈ
4x100 میٹر ریلے: 2 گولڈ، 2 سلور، 1 برونز
1954:
دوسری ایشین گیمز، منیلا، فلپائن: گولڈ 100 میٹر (10.6 سیکنڈ، نیا ایشین ریکارڈ)، سلور 4x100 میٹر (41.5 سیکنڈ)
ٹرائی اینگولر میٹ، انگلینڈ: گولڈ 100 میٹر
برٹش ایمپائر اینڈ کامن ویلتھ گیمز، وینکوور: 4x110 یارڈ ریلے میں پانچواں مقام
1956:
پاکستان بمقابلہ انڈیا، دہلی، انڈیا: گولڈ 100 میٹر (10.4 سیکنڈ، نیا ایشین اور پاکستان ریکارڈ)، گولڈ 200 میٹر (21.4 سیکنڈ، نیا ایشین اور پاکستان ریکارڈ)، سلور 4x100 میٹر
انٹرنیشنل ملٹری ٹریک اینڈ فیلڈ چیمپئن شپ، برلن، جرمنی: برونز 100 میٹر (10.4 سیکنڈ)، برونز 200 میٹر
میلبورن اولمپکس، آسٹریلیا: 100 میٹر اور 200 میٹر ہیٹس میں حصہ لیا، لیکن کوارٹر فائنل تک نہ پہنچ سکے؛ 4x100 ریلے سیمی فائنل
دیگر: انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، آسٹریلیا میں متعدد گولڈ اور سلور جیتے، جیسے ہائی لینڈ گیمز میں گولڈ 100 یارڈ
1957:
پاک ایران مقابلے، تہران، ایران: گولڈ 100 میٹر (10.8 سیکنڈ)، گولڈ 200 میٹر (22 سیکنڈ)، گولڈ 4x100 میٹر (40.8 سیکنڈ)
ورلڈ ملٹری میٹ، ایتھنز، یونان: سلور 100 میٹر
انگلینڈ اور آئرلینڈ میں متعدد گولڈ جیتے، جیسے لندن بمقابلہ نیویارک میں گولڈ 100 یارڈ اور 100 میٹر
1958:
تیسری ایشین گیمز، ٹوکیو، جاپان: گولڈ 100 میٹر (10.9 سیکنڈ)، سلور 200 میٹر (21.7 سیکنڈ)، برونز 4x100 میٹر (41.5 سیکنڈ)
کامن ویلتھ گیمز، کارڈف: 100 یارڈ اور 200 یارڈ ہیٹس میں حصہ، 4x100 ریلے پانچواں
جاپان اور ہانگ کانگ میں گولڈ اور سلور جیتے
1960:
روم اولمپکس، اٹلی: 100 میٹر اور 200 میٹر ہیٹس میں حصہ، 4x100 ریلے سیمی فائنل
1956 میں دہلی میں پاکستان بمقابلہ انڈیا مقابلوں میں عبدالخالق نے 100 میٹر اور 200 میٹر میں گولڈ جیتے۔ انڈین وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے انہیں "فلاینگ برڈ آف ایشیا" کا لقب دیا، جو اردو میں "ایشیا کا پرندہ" کہلاتا ہے۔
عبدالخالق 10 مارچ 1988 کو راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ ان کی کامیابیاں پاکستان کی ایتھلیٹکس کی سنہری تاریخ کا حصہ ہیں، اور وہ آج بھی نوجوان ایتھلیٹس کے لیے ایک مثال ہیں۔ افسوس کہ ان کی کامیابیوں کی تفصیلات محدود دستیاب ہیں، لیکن انہوں نے پاکستان کو ایشیا اور دنیا میں فخر بخشا۔
Awards & Recognition
100 yards: 9 gold, 0 silver, 2 bronze
120 yards: 2 gold
100 meters: 13 gold, 8 silver, 4 bronze
220 yards: 2 gold, 1 silver, 1 bronze
200 meters: 7 gold, 4 silver, 4 bronze
4x110 yards relay: 1 gold
4x100 meters relay: 2 gold, 2 silver, 1 bronze


