مانسہرہ — تاریخ، تہذیب اور پہاڑوں کے درمیان بسا ہوا شہر
خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن میں واقع ایک ایسا شہر، جہاں پہاڑ صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ صدیوں پرانی تاریخ کے خاموش گواہ بھی ہیں۔
آج کا مانسہرہ ایک مصروف اور ترقی کرتا ہوا شہر ہے، لیکن اس کی زمین کے نیچے اور اس کے گرد و نواح میں تاریخ کی ایسی داستانیں پوشیدہ ہیں جو ہزاروں سال پرانی ہیں۔
قدیم مانسہرہ جہاں تاریخ پتھروں پر لکھی گئی
مانسہرہ کا خطہ قدیم زمانے میں گندھارا تہذیب کے وسیع ثقافتی علاقے سے منسلک رہا۔
اس شہر کی تاریخی اہمیت کا سب سے بڑا ثبوت اشوک کے سنگی فرامین ہیں۔
مانسہرہ کے قریب تین بڑے چٹانی پتھروں پر موریہ بادشاہ اشوک کے چودہ فرامین کندہ ہیں، جو تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ فرامین خروشتی رسم الخط میں دائیں سے بائیں لکھے گئے ہیں۔
محکمۂ آثارِ قدیمہ کے مطابق یہ جنوبی ایشیا میں تحریری شواہد کی قدیم ترین قابلِ اعتماد مثالوں میں شمار ہوتے ہیں۔
سوچیے۔۔۔
آج سے تقریباً دو ہزار تین سو سال پہلے اسی خطے میں ایک بادشاہ اپنے پیغامات پتھروں پر نقش کروا رہا تھا۔
اور آج بھی وہ الفاظ خاموش چٹانوں پر زندہ ہیں۔
قدیم راستوں کا اہم پڑاؤ
مانسہرہ صرف ایک رہائشی علاقہ نہیں تھا بلکہ قدیم زمانے میں اہم راستوں کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے بھی اس کی خاص اہمیت تھی۔
یہ راستے پشاور کی وادی کو کشمیر، گلگت، وسطی ایشیا اور ٹیکسلا جیسے اہم علاقوں سے ملاتے تھے۔
اسی وجہ سے یہ خطہ مختلف تہذیبوں، حکمرانوں، تاجروں اور مسافروں کے گزرنے کا شاہد رہا۔
پکھلی سے مانسہرہ تک
صدیوں کے سفر میں اس خطے کو مختلف ناموں اور انتظامی شکلوں سے جانا گیا۔
تاریخی طور پر موجودہ مانسہرہ کا علاقہ پکھلی کے خطے کا حصہ رہا، جبکہ بعد کے ادوار میں یہاں مختلف قبائلی اور مقامی حکمرانوں کا اثر رہا۔
مغل دور کے بعد افغانستان سے آنے والی درانی حکومت اور پھر مقامی طاقتوں کے دور نے بھی اس خطے کی سیاسی تاریخ پر اثر ڈالا۔
سکھ دور اور جدید مانسہرہ کی بنیاد
انیسویں صدی میں ہزارہ کا علاقہ سکھ سلطنت کے زیرِ اثر آیا۔
تاریخی حوالوں کے مطابق مہان سنگھ میرپوری نے موجودہ مانسہرہ شہر کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، اور شہر کا نام بھی انہی سے منسوب کیا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے مانسہرہ کے نام کے پیچھے ایک سکھ دور کے منتظم اور فوجی شخصیت کی تاریخ بھی موجود ہے۔
یہ وہ دور تھا جب ایک چھوٹا سا شہر آنے والے وقت میں ایک بڑے انتظامی اور تجارتی مرکز میں تبدیل ہونے کی راہ پر گامزن تھا۔
برطانوی دور
1849ء کے بعد یہ علاقہ برطانوی حکومت کے زیرِ انتظام آگیا۔
برطانوی دور میں ہزارہ کے انتظامی نظام میں مانسہرہ کو ایک اہم تحصیل کی حیثیت حاصل رہی۔
1901ء کی مردم شماری کے مطابق اس وقت مانسہرہ ایک نسبتاً چھوٹا شہر تھا اور اس کی آبادی تقریباً 5,087 افراد پر مشتمل تھی۔
وقت گزرتا گیا، آبادی بڑھتی گئی اور مانسہرہ کی انتظامی اہمیت بھی مسلسل بڑھتی رہی۔
پاکستان بننے کے بعد
1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد مانسہرہ ہزارہ کے انتظامی ڈھانچے کا حصہ رہا۔
پھر 1976ء میں مانسہرہ کو باقاعدہ ضلع کا درجہ دیا گیا اور مانسہرہ شہر کو ضلع کا صدر مقام بنایا گیا۔
بعد کے برسوں میں انتظامی تبدیلیاں بھی ہوتی رہیں۔
1993ء میں بٹگرام کو الگ ضلع بنایا گیا، جبکہ 2011ء میں کالا ڈھاکہ کو الگ کرکے تورغر ضلع قائم کیا گیا۔
آج کا مانسہرہ
آج مانسہرہ ایک ایسا شہر ہے جہاں تاریخ، تجارت، تعلیم، ثقافت اور قدرتی حسن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ شہر ایک طرف جدید زندگی کی رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تو دوسری طرف اس کے اردگرد موجود تاریخی مقامات اسے اپنے شاندار ماضی سے جوڑے رکھتے ہیں۔
مانسہرہ سے آگے بڑھیں تو ہزارہ کے بلند پہاڑ، وادیاں اور قدرتی مناظر اس خطے کی خوبصورتی کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔
مانسہرہ تاریخ، تہذیب اور پہاڑوں کے درمیان بسا ہوا شہر



Comments
Login to comment.