ہری پور شہر کی تاریخ ہری پور، خیبر پختونخوا کے خوبصورت ہزارہ خطے کا ایک تاریخی شہر ہے۔ یہ شہر اپنی قدیم تہذیبی روایات، تاریخی قلعے، سرسبز وادیوں اور اہم جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے خاص مقام رکھتا ہے۔ سرکاری خیبر پختونخوا ذرائع کے مطابق ہری پور کی بنیاد 1822ء میں رکھی گئی اور شہر کا نام ہری سنگھ نلوہ سے منسوب کیا گیا۔
ہری پور کی بنیاد
انیسویں صدی کے آغاز میں ہزارہ کا علاقہ مختلف سیاسی طاقتوں کے درمیان اہمیت رکھتا تھا۔ 1822ء میں ہری سنگھ نلوہ نے یہاں ایک باقاعدہ شہر آباد کیا۔ شہر کے دفاع کے لیے ہری کشن گڑھ قلعہ تعمیر کیا گیا، جو اس دور میں شہر کا مرکزی دفاعی مرکز تھا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق قلعہ 1822–23ء کے دوران تعمیر ہوا اور اس کے گرد دفاعی خندق بھی موجود تھی۔
ہری پور کو اس دور میں ایک منصوبہ بند شہر کے طور پر بھی اہمیت حاصل ہوئی۔ قلعے اور شہر کی فصیل نے اسے ایک مضبوط انتظامی و دفاعی مرکز بنانے میں کردار ادا کیا۔
سکھوں کا دور
ہری پور سکھ سلطنت کے دور میں ہزارہ کے ایک اہم انتظامی اور فوجی مراکز میں شمار ہونے لگا۔ اس زمانے میں شہر کی ترقی کے ساتھ ساتھ دفاعی نظام اور آبپاشی کے منصوبے بھی قائم کیے گئے۔
برطانوی دور
1849ء میں دوسری اینگلو سکھ جنگ کے بعد پنجاب اور ہزارہ کا علاقہ برطانوی اقتدار میں آگیا۔ ہری پور اس دور میں بھی انتظامی اعتبار سے اہم رہا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1849ء سے 1853ء تک ہری پور ہزارہ کا ضلعی ہیڈکوارٹر بھی رہا، بعد ازاں انتظامی مرکز ایبٹ آباد منتقل ہوگیا۔
برطانوی دور میں ہری پور تحصیل کے طور پر انتظامی نظام کا حصہ رہا اور وقت کے ساتھ شہر میں سرکاری اداروں، تعلیم، تجارت اور مواصلات کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔
قیامِ پاکستان کے حالات
1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد ہری پور ہزارہ خطے کا ایک اہم شہر رہا بعد کے عشروں میں آبادی، تجارت، صنعت، تعلیم اور زراعت میں اضافہ ہوا۔
انتظامی اعتبار سے ایک اہم تبدیلی 1991ء میں آئی، جب ہری پور کو ایبٹ آباد سے الگ کرکے باقاعدہ ضلع ہری پور کا درجہ دیا گیا۔
خوبصورت اور اہم مقامات
آج ہری پور تاریخی ورثے کے ساتھ ساتھ اپنی قدرتی خوبصورتی کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ خانپور ڈیم اور اردگرد کے پہاڑی و سرسبز علاقے سیاحت کے اہم مراکز ہیں۔ ہری پور کا محلِ وقوع اسلام آباد، ہزارہ اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کے درمیان اسے تجارتی اور مواصلاتی لحاظ سے بھی اہم بناتا ہے۔جدید دور کا ہری پور
وقت کے ساتھ ہری پور نے روایتی زراعت اور صنعت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی جانب بھی قدم بڑھایا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق Pakistan Digital City Haripur کو تحقیق، صنعت، ٹیکنالوجی اور جدت کے لیے ایک جدید مرکز کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
ہری پور — تاریخ، ثقافت اور ترقی کا سفر
ہری پور کی داستان صرف ایک شہر کی داستان نہیں بلکہ ہزارہ کے بدلتے ہوئے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کی عکاس بھی ہے۔ 1822ء میں ایک منصوبہ بند شہر کے طور پر آغاز سے لے کر 1991ء میں ضلع بننے اور آج کے جدید ٹیکنالوجی و صنعتی مرکز تک، ہری پور نے تقریباً دو صدیوں کا ایک قابلِ ذکر سفر طے کیا ہے۔
ہری پو جہاں تاریخ کے آثار، قدرت کا حسن اور مستقبل کی امید ایک ساتھ نظر آتی ہے۔



Comments
Login to comment.